اورنج لائن میٹروٹرین

بڑھتی ہوئی ٹریفک کی بھیڑ سے نمٹنےاورمسافروں کی متوقع مانگ کو پورا کرنے کے لیےلاہورمیں بڑے پیمانے پرٹرانزٹ ٹرانسپورٹ کی سہو لیات تیار کرنے کی اشد ضرورت تھی۔  ماس ٹرانزٹ سسٹم بڑھتی ہوئی طلب اور رسد میں فرق سے بچاتا ہے اور پائیدار ٹرانسپورٹ سسٹم کی ترقی میں اضافہ کرتا ہے۔ 2007 ء میں محکمہ ٹرانسپورٹ نے ایک ماہر کنسلٹنٹ کی زیرِ قیادت طویل المیعاد ماس ٹرانزٹ سسٹم کی  فزیبلٹی اسٹڈی کے لیے کمیشن بنایا۔

  • 2014 ء  میں نیسپاک نے اس کی فزیبلٹی اسٹڈی کو مزید اپ ڈیٹ کیا
  • 22مئی 2014 ء  کو  ای۔ پی۔ سی اور فنانس موڈ میں معاہدہ ہوا

نمایاں خصوصیات

ذیل میں ٹرین کی نمایاں خصوصیات ہیں:

  • روٹ کی لمبائی: 27.1 کلو میٹر  (کٹ اینڈ کور 1.7km،   اونچائی  25.4km)
  • روٹ الائنمنٹ: علی ٹاؤن تا ڈیرہ گجراں
  • اسٹیشنز: 26 ( بلندی 24، کٹ اینڈ کور 2)
  • رولنگ اسٹاک: 27 ٹرین
  • متوقع رائڈر شپ: ایک دن میں تقریباً245,000  
  • سفر کا وقت: 45 منٹ (پہلے 2 گھنٹے سے 2.5 گھنٹے)
تصویر لوڈ نہیں ہوئی
اورنج لائن میٹروٹرین گیلری
   

منصوبہ کی پیش رفت

منصوبوں کی پیش رفت درج ذیل ہے:

  • 93.71%  سول کا م مکمل ہو چکا ہے۔
  • 95.78%  ای اینڈ ایم  کام مکمل ہو گیا۔
  • ٹریک بچھانے کا کام مکمل ہو چکا اورسی آر۔ نارینکوکے حوالے کر دیا گیا ہے۔
  • تمام اسٹیشنز کا کام مکمل ہو چکا اورسی آر۔ نارینکوکے حوالے کر دیا گیا ہے۔
  • اورینج لائن منصوبہ کو چلانےاوردیکھ بھال کے لیے تین ٹینڈرزمیں پروکیور منٹ مکمل ہو چکی ہے اوراتھارٹی بورڈ کے 10ویں اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔

مزید معلومات کے لیے پی ایم اے کی ویب سائیٹ وزٹ کریں۔